چنتامنی:23 /اگست(محمد اسلم؍ایس اونیوز) کل چنتامنی تعلقہ کے بنگلور ہائی وے روڈ پر واقع چنسندرہ گاؤں کے قریب موجود دارالعلوم محمودیہ مدرسہ میں زیر تعلیم طالب علم عبدالنواز ابن نوشاد (10)ساکن شہنشاہ نگر کولار کا کسی نے بے رحمی سے گلاکاٹ کر قتل کردیا تھا، اس ضمن میں آج منگل کو چکبالاپور ضلع سے آئی ہوئی خصوصی پولیس ٹیم نے مدرسہ کا جائزہ لیا اورمقامی لوگوں سے پوچھ تاچھ کی، جس کے دوران لوگوں نے پولس کو بتایا کہ مدرسہ کا مہتمم ہمیشہ عملیات کیا کرتا تھا مقامی لوگوں کے مطابق اُس بچے کو مہتمم اور آسام کا ایک شخص نے مل کر خرانہ نکالنے کے نام پر قتل کیا ہوگا، لوگوں نے اس کی فوری تحقیقات کرکہ مدرسہ کے مہتمم اور بچے کو قتل کرنے کے پیچھے شامل دیگر لوگوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔
ڈی۔وائی۔ایس۔پی۔کرشنامورتی نے آج اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دس سالہ نواز کو بہیمانے طریقے سے قتل کرنے والے قاتلوں کو گرفتار کرنے کے لئے پولیس کی ایک ٹیم کو آسام بھیجا گیا ہے لوگوں کو اس بات کا شک ہے کہ مدرسہ کے مہتمم مولانا عثمان اللہ شاہ نظامی نے ہی بچے کو خرانہ کے نام پر بلی چڑھایا ہوگا کیونکہ دس سالہ معصوم بچے کے گلے کو بے رحمی سے کاٹا گیا ہے۔پولیس اُس کی تحقیقات کررہی ہے ۔ہمیں خبر ملی ہے کہ مدرسہ میںچنسندرہ گاؤں کےصرف گنے چنے بچوں نے ہی داخلہ لیا تھا اور عثمان اللہ مدرسہ چلایا کرتا تھا انہوں نے بتایا کہ عنقریب چنتامنی تعلقہ کے تمام مدرسوں جانچ کی جائے گی۔ انہوں نے اپیل کی کہ کسی بھی مدرسہ میں استاد کو رکھنے سے قبل اُس کا پتہ اور شناختی کارڈ مع تصویر وغیرہ ضرور حاصل کریں ۔
مقامی علمائے کرام نے بھی اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام کسی کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیتا معصوم بچے کو بے رحمی سے قتل کرنا شیطانی حرکت ہے جو لوگ دس سالہ نواز کو بے رحمی سے قتل کرنے میں شامل ہیں ان کا پتہ لگاکر انہیں کڑی سے کڑی سزا دی جائے ۔